کرونا وائرس کی حقیقت اور دابہ الارض

السلام علیکم
ھم سب کو چاھیے کہ ھنسی مذاق چھوڑ کر غور کریں کہ یہ سب کیا ھو رھا ھے اور کیوں ھو رھا ھے۔ اللہ تعالی سے معافی طلب کرنے کا وقت ھے اور اپنے اعمال پر نظرثانی کی ضرورت ھے۔ یہ مقالہ اسی سلسلہ کی ایک ادنی کاوش ھے۔ وقت نکال کر ضرور پڑھیے اور میری اصلاح
بھی فرمائیے
سید شرف الدین

ترجمہ: “اور جب وعدہ پورا ہوجائے گا ، تو ہم زمین سے ایک ایسا جانور نکالیں گے جو انسانوں کو بتائے گا کہ انہیں ہماری نشانیوں پر کوئی ایمان نہیں تھا”۔ القرآن۔ [سورہ نمل (27)؛ آیت 82]۔

تفسیر البغوی ، تفسیر الطبری اور تفسیر المیسر میں اس آیت کے مختلفت معانی بیان ہوے ھیں۔ ایک تشریح یہ ہے کہ مذکورہ آیت میں زمین کی مخلوق کا ظہور اس وقت ہوگا جب لوگ اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے معروف کی حمایت اور منکر کی مخالفت کرنا چھوڑ دیں گے (امر بالمعروف و نہی عن منکر)۔ دیگر الفاظ میں لوگ اس وقت خاموشی اختیار کرلیں گے جب وہ کسی طاقتور قوم یا جماعت کو کسی کمزور قوم یا جماعت پر ظلم و ستم ڈھاتا ھوا دیکھ رہے ہوں گے تاکہ ان پر کوئ حرف نہ آجائے اور ان کی حق گوئ ان کے کسی نقصان کا باعث نہ بنے۔ موجودہ بین الاقوامی آرڈر اور روزمرہ کے واقعات میں ہمارا قومی اور ذاتی طرز عمل ایسی کئی مثالوں سے پر ہے۔ بہت ہی کم لوگوں میں ہمت ہے کہ وہ کہیں پر ہونے والے ظلم یا برائی کے خلاف بات کریں ، تا آنکہ وہ ظلم ان کے گھروں تک نہ آجائے اور ان کو بولنے پر مجبور کردے۔ یہ جاننے کے باوجود کہ بنیادی ضرورتوں کی سطح پر ہم سب انسان ھیں اور برابر ہیں ، ہمارا رویہ اکثر یہ ھوتا ھے کہ چھوڑو یہ میرا مسئلہ نہیں ھے۔

ایک اور تشریح میں کہا گیا ہے کہ جب علما کرام بڑی تعداد میں مرجائیں گے اور حقیقی علم غائب ہو جائے گا تو اس وقت دابہ الارض کا ظہور ھو گا۔ اور قران زمین سے اُٹھا لیا جائے گا۔ علمائے کرام کی موت کی بات تو قابل فہم ہے لیکن یہ یقین کرنا عجیب معلوم ہوتا ہے کہ انٹرنیٹ کی دنیا میں جہاں روزانہ دنیا بھر میں علم فری بانٹا جاتا ھے، کلام پاک کو زمین سے اٹھا لیا جائے گا۔ یہ سوال صحابہ کرام نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا ۔ انہوں نے وضاحت کی کہ علم غائب ہونے کا مطلب انفارمیشن کا غائب ھونا نہیں ہے بلکہ اس کی اتنی یلغار ہوگی کہ اس ذخیرہ خرافات میں سے حقیقی علم کو تلاش کرنا مشکل ہو جائے گا۔ قرآن پاک اٹھا لیے جانے کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ کتاب مقدس کے صفحوں سے سیاہی مٹ جاے گی ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگ قرآن کے پیغام کو سنجیدگی سے سمجھے بغیر اور اپنی زندگی میں اس پر عمل کیے بغیر ، اس کو فن ادب اور آرٹ کے ایک عظیم شاہکار کے طور پر اھمیت دیں گے۔ اگر ہم مسلمانوں کی حالت زار پر نگاہ ڈالیں تو ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ان کی زندگی میں قرآن کا کتنا کم وجود پایا جاتا ہے حالانکہ وہ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر اس کو گرافکس اور آڈیو میں آگے بھیجنے میں ہزاروں کی تعداد میں روزانہ مصروف ہیں۔ کروڑوں مسلمانوں میں صرف چند ھزار لوگ اپنی زندگی میں قران کو سمجھنے اور اس میں جذب ھو جانے والے بچے ہیں۔ بہت افسوس کی بات ہے کہ قرآن پاک بظاہر کثرت سے موجود ہے لیکن یہ ہمارے دلوں اور زندگیوں سے تیزی سے کوچ کر رہا ہے۔

ایک وضاحت میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ زمینی مخلوق کی ظاہری شکل اختتام کائنات کی دس بڑی علامتوں میں سے ایک ہوگی۔ انھیں الطبری اور البغوی نے اس طرح روایت کیا ہے: سورج مغرب سے طلوع ہوگا ، دھوئیں کا ظہور ہوگا ، یاجوج اور ماجوج کا ظہور ہوگا۔ دجال کا ظہور؛ عیسیٰ علیہ السلام کا زمین پر آنا ، مغرب ، مشرق اور جزیرہ عرب میں مکمل سورج گرہن اور عدن میں زبردست آگ۔

ہر ایک علامت کی اپنی ابتدا عروج اور اختتام ھے ۔ ہوسکتا ہے کہ یہ علامات اس ترتیب کی پیروی نہ کریں جس میں یہ بیان کی گئی ھیں ۔ یہ بھی ممکن ھے کہ ان علامات کے ظہور کے درمیان کئ سو برس کا وقفہ بھی ھو کیونکہ کائناتی قوتیں زمین پر پائے جانے والے وقت کے تابع نہیں ہوتی ہیں۔ ضروری نہیں کہ مغرب سے سورج کا طلوع ہونا دابہ الارض کے ظہور سے پہلے ھو- ہوسکتا ہے یہ علامت یاجوج ماجوج کے ظہور کے بعد عمل میں آئے۔ لیکن ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ کچھ واقعات جوڑے جائیں گے جیسے عیسیٰ علیہ السلام کی آمد دجال کے بعد ھو گی اور یہ کہ دوسرا اور آخری صور اس وقت تک نہیں پھونکا جائے گا جب تک کہ ہر نفس کسی اور زمین پر دوبارہ زندہ ہونے کے لئے مر نہیں جاتا۔

دابہ الارض کے ظہور کا واضح مطلب یہ ہے کہ اللہ کے وعدے کی تکمیل کا وقت مکمل ھو گیا ھے۔ اور اس کی واضح نشانی اس بات کی گواہ ھے کہ اب انسان کے حتمی حساب کتاب کا وقت قریب آ گیا ہے۔ دابہ الارض کے ظہور کا یہ مطلب بھی ہے کہ چند دنوں یا سالوں میں اللہ سے توبہ کرنے کا اور معافی حاصل کرنے کا دروازہ بند ہونے والا ھے جیسا کہ احادیث میں آتا ہے۔ اس دابہ الارض کے ظہور میں آنے سے انسان یہ بھی دیکھ لے گا کہ نینو طب ، عالمی مواصلات ، خلائی ٹیکنالوجی ، جدید جنگ اور فطرت کی قوتوں کو زیر کرنے میں انسان اگر چیکہ کتنا ہی ترقی یافتہ بن گیا ہے مگر یہ اللہ کی مرضی کے خلاف اس حد تک غیر معمولی کمزور اور لاچار ہے کہ جب اللہ فیصلہ کرتا ہے اسے کسی مکھی ، مچھر ، بیکٹیریا یا وائرس کے ذریعہ ختم کردے تو وہ اس کو روکنے کی سکت نہیں رکھتا ہے۔

مفسرین کا کہنا ھے کہ دابہ الارض کے ظہور کے بعد حقیقی مومن اور اصلی کافر اپنے اعمال کی وجہ سے آسانی سے پہچان لیے جائیں گے۔ جب کوئ آفت زمین پر آتی ھے تو انسانیت کسوٹی پر آجاتی ھے۔ ہم تجربے سے جانتے ہیں کہ لوگ دو حصوں میں تقسیم ہو جاتے ہیں: وہ جو زخمیوں اور کمزوروں کی مدد کے لئے فوری کمر باندھ لیتے ہیں اور وہ جو دوسروں کی املاک اور جائیدادوں کو لوٹنے میں لگ جاتے ہیں۔ اسی طرح جب دابہ الارض انسانوں سے ہم کلام ھوگا تو ایسے لوگ بھی ہوں گے جو یہ محسوس کریں گے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور ناشکری کرتے رہے ہیں اور وہ خوف کے مارے کانپنے لگیں گے اور خدا کی مغفرت کی امید کریں گے۔ اور ایسے لوگ بھی ہوں گے جو اس کو تفریح اور مذاق کے طور پر لیں گے اور اپنا وقت دابہ الارض کی تضحیک کرنے میں صرف کریں گے۔ اور اس طرح کے غیر معمولی واقعہ کی وجہ سے پیدا ہونے والی الجھن اور تباہی کو بڑھانے میں اضافہ کریں گے۔ اہل ایمان کے لیے یہ وقت فکر کرنے اور غور کرنے کا ہے۔ لیکن کافروں کے لئے وقت بزنس ایز یوزول ھے۔

تفسیر جلالین کے مطابق دابہ الارض کا نکلنا اصل میں عذاب الہی ھے جس کی وجہ انسان کی خدا کے خلاف بغاوت اور جرائم ھیں۔ اگرچہ ہمارے زمانے سے قبل بعض اقوام پر بھی عذاب الہی زلزلہ ، بجلی سیلاب یا دھماکے کی بے جان قوتوں کی شکل میں آتے رھے ھیں لیکن قرب قیامت عذاب الہی کی یہ شکل ایک جاندار کے ظہور کی وجہ سے ہوگی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب “زمین کی مخلوق” بنی نوع انسان کو بتائے گی کہ “انہیں ہماری نشانیوں پر کوئی حقیقی اعتبار نہیں تھا۔”

انسانی تاریخ میں تباہ کن قدرتی آفات کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ یورپ میں 1331 کا عظیم بوبونک طاعون جس نے 200 ملین افراد کو ہلاک کیا ، اس کے اثرات چوہوں کی بیماری کی وجہ سے لگے تھے۔ 1918 کے ہسپانوی فلو نے 50 ملین افراد کو ہلاک کیا – یہ انفلوئنزا وائرس کی وجہ سے ھوا تھا۔ ایک وائرس کے سبب 1956 میں ایشیئن فلو اور 1968 میں ہانگ کانگ فلو بھی ہوا جس نے اجتماعی طور پر 300،000 افراد کو ہلاک کیا۔ 2003 میں سارس وائرس نے مشرق بعید اور جنوب مشرقی ایشیاء میں ہزاروں ہلاکتیں کیں۔ لیکن یہ واقعات عالمی سطح پر نہیں تھے۔ انہوں نے ایک ہی وقت میں پوری زمینی انسانی نسل کو زندگی اور موت کی لاٹری میں نہیں دھکیلا تھا

کورونا وائرس جس نے دسمبر 2019 میں بڑی تعداد میں چین میں لوگوں کو مارنا شروع کیا صرف 4 ماہ کے قلیل عرصے میں 178 ممالک میں پھیل گیا۔ مارچ 2020 کے آخر تک اس نے پوری عالمی آبادی کو متاثر کردیا۔ انسانی تاریخ کے اس غیر معمولی واقعے نے طبی برادری کو یہ باور کرا دیا ہے کہ ان کے پاس موجود وبائ علم اور بایو ٹکنالوجی کورونا وائرس کے خلاف بالکل بے بس ہے۔ اس سے بچنے کا واحد فوری محفوظ طریقہ یہ ہے کہ انسان خود کو تنہائی میں محبوس کرلے تاکہ اس کی پھیلاؤ میں کچھ تخفیف ھو جائے اور اس دوران سائنسدان ریسرچ کرکے اس کے علاج کے لئے کوی تریاق ڈھونڈ سکیں۔

قرب قیامت کی دوسری بڑی علامتوں کی طرح یہ اھم واقعہ بھی گزرجائے گا جب اس کے علاج کی ویکسین بنالی جائے گی۔ لیکن اس کے ظہور سے دنیا کئ ھزار انسانوں کی جانوں سے محروم ھوگئ اور اس کے معاشی اور مالی اثرات تو شاید کئ سالوں تک اقوام عالم کو پریشان رکھیں۔ اس نشانی میں سیکھنے کے لیے کئ اھم سبق ھیں۔ سب سے بڑا سبق تو یہ ھے کہ کائنات اپنے اختتام کو ایک درجہ مزید قریب پہنچ گی۔اب جبکہ زمین کی مخلوق (وائرس) نے پوری بنی نوع انسان سے اس انداز میں علامتی انداز میں بات کی ہے کہ ہمارے ماحول میں کوئی بھی اس کی موجودگی سے غافل نہیں ہے ، اب وقت آگیا ہے کہ ہم جنگوں اور جبر کو ترک کردیں اور روح کی مضبوطی کو آگے بڑھائیں۔ تعاون کو فروغ دیں اور خدا کے حضور اپنے سروں کو ٹیک دیں اور اپنے گناہوں کی معافی مانگیں۔ بے شک ھمیں یہ وائرس بتا گیا ھے کہ انسان کتنا حقیر کمزور اور مجبور ھے۔

آئیے ہم اکٹھے اپنے رب کے حضور پورے خلوص کے ساتھ مل کر دعا کریں جس سے ہم تعلق رکھتے ہیں اور جس کی طرف ہم سب اپنے مقررہ وقت پر لوٹنا ھے۔ آئیے ہم اپنے ہاتھوں کو عاجزی سے اٹھائیں اور کہیں کہ: “میں اللہ غالب ، قادر مطلق سے معافی چاہتا ہوں ، اور میں اپنے غلط کاموں پر اس سے توبہ کرتا ہوں۔ اللہ ہمارے لئے کافی ہے اور وہ معاملات میں سب سے بہتر تصرف کرنے والا ہے۔ اے اللہ ہمیں اپنا حق دکھا اور ہمیں تیز ہواؤں کے عذاب سے بچا ، اور ہمیں ، بیماریوں آفات وبائی امراض اور قحط سے بچا- ہم آپ سے معافی مانگتے ہیں اور اپنی کامیابی اور خیریت کے لئے دعا گو ہیں۔ اور ہم اپنے آقا محمد ، ان کے اہل خانہ اور ساتھیوں سے اللہ کی رحمتیں اور سلام کی دعا کرتے ہیں۔ آمین


Posted

in

by

Tags:

Comments

One response to “کرونا وائرس کی حقیقت اور دابہ الارض”

  1. Scroll Down avatar

    میں سمجھتا ھوں کہ دابہ الارض سے مراد کوئ حقیر کیڑا ھے اگر چیکہ چند تفاسیر میں حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی کی طرح کسی بڑے جانور کے آنے کا ذکر ھے۔ قرآن کریم میں ایک اور جگہ جہاں دابہ الارض کا ذکر آیا ھے وہ سلیمان علیہ السلام کی رحلت سے متعلق ھے جب انکے عصا کو دیمک آھستہ آھستہ کھاتی رھی جب تک وہ گر نہ گئے۔ اس لیے دابہ الارض شاید ایسا ھی کوئ حقیر مخلوق ھوگا جس کے ذریعہ انسان کا غرور اور اسکی جھوٹی خدای کے دعوے کو زمین بوس کرنا مقصود ھو۔ ویسے تو جانوروں کے لیے قرآن کریم میں دیگر الفاظ بھی استعمال ھوے ھیں جیسے الانعام۔ واللہ اعلم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.